وہ پو پھٹی، وہ سحر آئی، رات ختم ہوئی

وہ پو پھٹی، وہ سحر آئی، رات ختم ہوئی
پھر ایک بات چھڑی، ایک بات ختم ہوئی

رہ حیات کے ہر موڑ پر یہ غم توبہ
ابھی حیات، ابھی کائنات ختم ہوئی

مریض عشق نے لو شرح زندگی کر دی
چھڑی تھی آہ سے، ہچکی پہ بات ختم ہوئی

مرے جنوں ہی نے بحث حیات چھیڑی تھی
مرے جنوں ہی پہ بحث حیات ختم ہوئی

ہمیں نے عشق کیا اختیار جب باقیؔ
جہاں سے رسم و رہ التفات ختم ہوئی

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے