آئی نہ پھر نظر کہیں جانے کدھر گئی

آئی نہ پھر نظر کہیں جانے کدھر گئی
ان تک تو ساتھ گردش شام و سحر گئی

کچھ اتنا بے ثبات تھا ہر جلوہ حیات
لوٹ آئی زخم کھا کے جدھر بھی نظر گئی

آ دیکھ مجھ سے روٹھنے والے ترے بغیر
دن بھی گزر گیا، شب غم بھی گزر گئی

باقیؔ بس ایک دل کے سنبھلنے کی دیر تھی
ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر ٹھہر گئی

تیرے بغیر رنگ نہ آیا بہار میں
اک اک کلی کے پاس نسیم سحر گئی

نادم ہے اپنے اپنے قرینے پہ ہر نظر
دنیا لہو اچھال کے کتنی نکھر گئی

شبنم ہو، کہکشاں ہو ستارے ہوں پھول ہوں
جو شے تمہارے سامنے آئی نکھر گئی

باقی صدیقی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا