سامنے بیٹھ کے ہر بات ہوئی

سامنے بیٹھ کے ہر بات ہوئی
پھر بھی ان سے نہ ملاقات ہوئی

یوں تو کیا کچھ نہیں ہوتا لیکن
پوچھئے اس سے جسے مات ہوئی

دل ہی جب ٹوٹ گیا تو پھر کیا
نہ ہوئی یا بسر اوقات ہوئی

آپ پھر بیچ میں بول اٹھے ہیں
کب ابھی ختم مری بات ہوئی

میرے ہوتے تو وہ چپ تھے باقیؔ
کیا مرے بعد کوئی بات ہوئی

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے