وقت کی رفتار سے آگے نکل

وقت کی رفتار سے آگے نکل
طے شدہ کردار سے آگے نکل

حسن کے بازار سے آگے نکل
خواہشوں کے غار سے آگے نکل

سیرت و کردار پہ لکھ داستاں
تُو لب و رخسار سے آگے نکل

آسماں جھک جائے گا تیرے لئے
سایہء دیوار سے آگے نکل

بن کے تُو انسانیت کا ترجماں
ذات کے اظہار سے آگے نکل

خوش بیانی سے دلوں کو رام کر
تلخیء گفتار سے آگے نکل

ساتھ چل حق بات کے تُو ہر جگہ
بے سبب تکرار سے آگے نکل

منزّہ سیّد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے