وفا کی راہ بدل کر چلے کہاں جاناں

وفا کی راہ بدل کر چلے کہاں جاناں
یہ کوئی خواب ہے یا پھر مرا گماں جاناں

لبوں کو آپ کے شعروں میں ڈھالنا ہے مگر
نقاب آتا ہے ہر بار درمیاں جاناں

یہ پودِ عشق ہے اشکوں سے آب دو اس کو
وگرنہ درد رہیں گے یوں ہی جواں جاناں

ہزار پھول ہوں خوشبو ہو چاند تارے ہوں
تمہارے بعد نہیں ہے سکوں یہاں جاناں

تمہیں نہ دیکھے مظفرؔ، خلوصِ دل سے اگر
نہ ہو نصیب اسے کوئی آسماں، جاناں

مظفرؔ ڈھاڈری

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا