بات جو کرتے نہیں آپ کی رعنائی کی

بات جو کرتے نہیں آپ کی رعنائی کی
قدر کیا جانیں یہ ناقدرے شناسائی کی

عشق سرخاب کو، فرقت کی بڑی چیلوں نے
زخم ایسے دیے حد ہی نہیں گہرائی کی

جب بھی برسات میں خوشبو سی ہوا لاتی ہے
یاد آتی ہے کسی گیسوئے سُرمائی کی
آپ موسم میں رکھیں رنگ یا پت جھڑ کا سماں
کس کی ہمّت ہے کرے بات بھی پروائی کی

لاکھ کوشش کی چھپانے کی مظفر لیکن
’’کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی‘‘

مظفرؔ ڈھاڈری

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر