نقاب رخ پہ لیئے آپ مسکراتے ہیں
خیال دل کا دھڑکنے سے بھی ہٹاتے ہیں
خیال وادی میں آتے ہیں اس طرح سے وہ
کہ شعر بحر میں جیسے اترتے جاتے ہیں
تراش تیرے بدن کی حضور سب سے جدا
فرشتے روز کہاں یہ ہنر دکھاتے ہیں
کلاس میں جو حسیں خواب ہے وہ کس کا ہے
کہو تو آج ہی تعبیر ہم بتاتے ہیں
مظفر آپ کو کیسا ہنر یہ ہاتھ لگا
کہ لوگ چاہ کے حلقے میں آتے جاتے ہیں
مظفرؔ ڈھاڈری