میرا لاشہ پڑا ہے صحرا میں

میرا لاشہ پڑا ہے صحرا میں
اک تماشہ پڑا ہے صحرا میں

شہر جنگل بناہوا ہے تو کیا
دیکھ صحرا پڑا ہے صحرا میں

دن بدل جائیں گے چلو یارو
وقت اچھا پڑا ہے صحرا میں

عین ممکن ہے سانس باقی ہو
وہ جو الٹا پڑا ہے صحرا میں

کوئی جائے اٹھاکے لائے میاں
عشق سارا پڑا ہے صحرا میں

تیری نفرت کے بھینٹ چڑھ کر آج
کوئی پیارا پڑا ہے صحرا میں

ماں کا دل کیوں نہ ہو اداس بھلا
اس کا بیٹا پڑا ہے صحرا میں

اک عجب خوف ہے مرے گھر میں
جب سے ڈاکا پڑا ہے صحرا میں

ہوں مظفرؔ بلوچ سو میرا
سارا شجرہ پڑا ہے صحرا میں

مظفرؔ ڈھاڈری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی