یار قصہ بڑا ہے پنجرے کا

یار قصہ بڑا ہے پنجرے کا
اک الگ ہی خدا ہے پنجرے کا

اے اسیرانِ شہرِ بے پرساں
تم کو مطلب پتہ ہے پنجرے کا؟

فاختاؤں کے دل میں چیلوں نے
خوف ڈالا ہؤا ہے پنجرے کا

لاپتہ اپنے یاد آئے ہیں
ذکر جب بھی چلا ہے پنجرے کا

اے مظفرؔ، نکل تو آئے پر
سر میں سودا رہا ہے پنجرے کا

مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر