وابستہ ہیں اس جہان سے ہم

وابستہ ہیں اس جہان سے ہم
آئے نہیں آسمان سے ہم

دکھ درد ہے ذکر و فکر اپنا
کہتے نہیں کچھ زبان سے ہم

اس جوشِ نمو سے لگ رہا ہے
اترے نہیں اس کے دھیان سے ہم

کمروں میں اجنبی مکیں تھے
کچھ کہہ نہ سکے مکان سے ہم

محفل تو جمی رہے گی مشتاق
اٹھ جائیں گے درمیان سے ہم

احمد مشتاق

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے