تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی نہیں تھا

تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی نہیں تھا
ہمارا کن سے پہلے رازداں کوئی نہیں تھا

بڑی خوش فہمیاں تھیں ساتھ ہیں احباب لیکن
جو پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا

ٹھکانہ مل گیا ہم کو تمہارے دل میں آخر
کہ اس سے قبل تو اپنا مکاں کوئی نہیں تھا

مجھے آوارگی نے جا کے چھوڑا اُس جگہ پر
مسلسل برف باری تھی دھواں کوئی نہیں تھا

طارق جاوید

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل