واسطہ اس سے جو پرانا ہے

واسطہ اس سے جو پرانا ہے
کیا ہمیں دھوپ نے جلانا ہے

ورنہ یہ ہم کو مار ڈالے گی
زندگی کا گلہ دبانا ہے

میں ہی خود کو پکارتا ہوں وہاں
میں نے دریا کے پار جانا ہے

انگلی اپنی طرف اٹھانی ہے
آئینہ خود کو اب دکھانا ہے

سنتِ عشق کو نبھاتے ہوئے
میں نے سجدے میں سر کٹانا ہے

دکھ سمجھتا ہوں ٹھہرے پانی کا
میرا دریا سے دوستانہ ہے

طارق جاوید

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان