اپنے جذبات کی تدفین کیا کرتا تھا

اپنے جذبات کی تدفین کیا کرتا تھا
تری ہر بات پہ امین کیا کرتا تھا

اب وہ بڑھ کر مجھے سینے سے لگائے کیوں کر
کل تلک میری جو توہین کیا کرتا تھا

حالت ہجر میں جب سانس اکھڑتی تھی مری
خود پہ دم سورہء یسین کیا کرتا تھا

آج بے تاب اسے دیکھ کے حیران ہوں میں
جو مجھے صبر کی تلقین کیا کرتا تھا

طارق جاوید

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان