تیرا وعدہ جھوٹا نکلا

تیرا وعدہ جھوٹا نکلا
ہجر ہی آخر سچا نکلا

میرا آنا دل میں تیرے
تیز ہوا کا جھونکا نکلا

ہم نے خود کو برسوں دیکھا
صرف نظر کا دھوکہ نکلا

اندر کی خاموشی ٹوٹی
دل سے شور شرابہ نکلا

میں سمجھا تو دکھ بانٹے گا
تو بھی غم کا مارا نکلا

جس کے خوف سے بھاگ رہا تھا
وہ اپنا ہی سایہ نکلا

طارق جاوید

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے