تُو اپنی موج میں رہ، پانیوں کو سر کر دے

تُو اپنی موج میں رہ، پانیوں کو سر کر دے
ہمارا کام تو ممکن ہے، یہ بھنور کر دے

سو جب یہ طے ہے کہ ترتیب ہی نہیں کوئی
تُو اس جہان کو جتنا ادھر ادھر کر دے !

اس ایک شخص کی رہ دیکھتا ہے سارا ہجوم
جو اک نگاہ سے مجمع کو منتشر کر دے

بتا دے سب کو ملاقات کی ہر اک تفصیل
اور اس طویل کہانی کو مختصر کر دے

میں زندگی ہوں، مجھے مت ازل ابد میں گنوا
تُو پیش و پس سے نکل ، اور مجھے بسر کر دے !

راز احتشام

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے