جہاں پہ تو ہے

جہاں پہ تو ہے تڑپتا ہے دل وہاں کے لیے
الجھ رہا ہوں خدا سے زماں مکاں کے لیے

سماعتوں سے اتارو تھکن، یہیں ٹھہرو
یہی پڑاؤ مناسب ہے داستاں کے لیے

جھلس گئے مرے اجداد اسے بناتے ہوئے
تمہارے سر پہ جو چھتری ہے سائباں کے لیے

تُو اس میں رہ لے، مگر اس میں مبتلا مت ہو
“جہاں ہے تیرے لیے تُو نہیں جہاں کے لیے”

ہم اپنی خاک اڑاتے ہیں اور ہنستے ہیں
بس اتنا رنج ہی کافی ہے آسماں کے لیے

راز احتشام

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا