ٹوٹا ہوا ہے جتنا بَھلے ، لگ نہیں رہا

ٹوٹا ہوا ہے جتنا بَھلے ، لگ نہیں رہا
وہ رو رہا ہے اور گلے لگ نہیں رہا

اِس تیز رو ہوا کی توجہ ہٹائیے
ورنہ چراغ اور جلے ، لگ نہیں رہا

خود ڈوبتا ہے دیکھ کے سورج کو ڈوبتا
دل ہے کہ اب تو شام ڈھلے لگ نہیں رہا

مجھ میں لہولہان ہیں سب خواہشیں مری
یہ جان لیوا جنگ ٹلے ، لگ نہیں رہا

نفرت کے موسموں میں محبت کا برگِ زرد
دو چار دن بھی پھولے پھلے لگ نہیں رہا

کومل جوئیہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے