سینے میں ہجرِ یار کے گھاؤ کے باوجود

سینے میں ہجرِ یار کے گھاؤ کے باوجود
جینا تو ہے ناں ذہنی دباؤ کے باوجود

کیا جانے کب جلال میں آ جائے سیلِ آب
دریا سے ڈر رہی ہوں میں ناؤ کے باوجود

پھر قہقہہ لگانا پڑا زندگی کے ساتھ
آواز میں نمی کے رچاؤ کے باوجود

اک شام لوٹ آیا پرندہ شجر کے پاس
آوارگی سے خوب لگاؤ کے باوجود

دنیا میں اُس سے بڑھ کے کوئی بھی نہیں عزیز
اوروں کی سمت اُس کے جھکاؤ کے باوجود

کومل جوئیہ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا