چلے جاتے تو ہیں پر لوٹتے ہیں

چلے جاتے تو ہیں پر لوٹتے ہیں
اداسی کے پیمبر لوٹتے ہیں

تمہاری سمت آنا اب ہے ایسے
کہ جیسے ہارے لشکر لوٹتے ہیں

نہ انکی رہگزر روکو کبھی تم
یہ دریا ہیں ، بپھر کر لوٹتے ہیں

چراغِ شب بجھا تو تیرگی کا
ستانے لگ گیا ڈر ، لوٹتے ہیں

نکالو لاکھ ان کو شہرِ دل سے
یہ اندیشے ہیں خود سر ، لوٹتے ہیں

وہی کھاتے ہیں ٹھندی روٹیاں ، جو
کما کر دیر سے گھر لوٹتے ہیں

کومل جوئیہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا