آواز لگانے کا سبب کچھ بھی نہیں ہے
پہلے تو چلو عشق تھا ، اب کچھ بھی نہیں ہے
اُس وقت مرے پاس محبت بھرا دل تھا
تم لوٹ کے اب آئے ہو جب کچھ بھی نہیں ہے
سچوں کی نقابیں بھی الٹ جائیں گی اک دن
اس جھوٹ کی دنیا میں عجب کچھ بھی نہیں ہے
ہر ایک کو ملتی ہے محبت بھی جفا بھی
اور میرے مقدر میں یہ سب کچھ بھی نہیں ہے
ٹھوکر پہ پڑے ہوتے ہیں کم نام قبیلے
کہنے کو یہاں نام و نسب کچھ بھی نہیں ہے
ہم اپنے چراغوں کو یہ سمجھاتے رہیں گے
یہ تیرہ شبی ، وحشتِ شب کچھ بھی نہیں ہے
کومل جوئیہ