تری آنکھ کا جب اشارہ ملا

تری آنکھ کا جب اشارہ ملا
مری کشتیوں کو کنارا ملا

وہ اک شخص ہم سے جدا ہو گیا
وہ اک شخص جو سب سے پیارا ملا

مری روح تک وہ اتر سا گیا
مری زندگی کو سہارا ملا

مری ہر خوشی اس پہ قربان ہے
خوشی یہ مجھے غم تمہارا ملا

ملن کے سبھی راستے بند ہیں
وہ نقویؔ نہ مجھ کو دوبارہ ملا

معظمہ نقوی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر