تری آنکھ کا جب اشارہ ملا

تری آنکھ کا جب اشارہ ملا
مری کشتیوں کو کنارا ملا

وہ اک شخص ہم سے جدا ہو گیا
وہ اک شخص جو سب سے پیارا ملا

مری روح تک وہ اتر سا گیا
مری زندگی کو سہارا ملا

مری ہر خوشی اس پہ قربان ہے
خوشی یہ مجھے غم تمہارا ملا

ملن کے سبھی راستے بند ہیں
وہ نقویؔ نہ مجھ کو دوبارہ ملا

معظمہ نقوی

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا