کاش مجھ کو ترے ہونے کا سہارا ہوتا

کاش مجھ کو ترے ہونے کا سہارا ہوتا
میرے دریائے تمنا کا کنارا ہوتا

مان رکھا نہ گیا تجھ سے مری الفت کا
لے کے دل تو نے مرے منہ پہ نہ مارا ہوتا

زندگی اپنی محبت میں حسیں ہو جاتی
عمر بھر کے لئے اک شخص ہمارا ہوتا

میرے آنچل نے ہوا کو بھی کیا ہے مہمیز
کاش زلفوں کو کبھی اپنی سنوارا ہوتا

اجنبی بن کے نہ شہروں میں یوں پھرتے نقویؔ
دل سے اک شخص اگر آج ہمارا ہوتا

معظمہ نقوی

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا