یہ بے رخی ہے کیسی تمہاری نگاہ میں

یہ بے رخی ہے کیسی تمہاری نگاہ میں
شاید کہیں کمی تھی ہماری ہی چاہ میں

لمحے وہ سب حسیں تھے بہت دل گداز تھے
گزرے جو خواب بن کے تمہاری پناہ میں

ایسا بھی کیا کہ تم کو محبت نہ ہو سکی
ایسا بھی کیا کہ ہم نہ جچے ہیں نگاہ میں

کھلتے ہیں مر کے ہم پہ سبھی راز زندگی
جینا تو اک پڑاؤ ہے منزل کی راہ میں

نقویؔ کا انتساب ہے اس شخصیت کے نام
رکھا ہے جس نے دل کا صحیفہ پناہ میں

معظمہ نقوی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر