تیرے بنا نظارہ نہیں آسمان کا

تیرے بنا نظارہ نہیں آسمان کا
ایسا بھی تو ستارہ نہیں آسمان کا

اپنی زمیں پہ خاک اڑاتا ہوں میں اگر
اس میں کوئی خسارہ نہیں آسمان کا

پھیلا ہوں میں بھی ایسے تری کائنات میں
جیسے کوئی کنارہ نہیں آسمان کا

پوچھا تو تھا زمیں کا مسیحا بنے گا کون
لیکن کوئی اشارہ نہیں آسمان کا

اس گھر کا کیا کروں کہ جہاں آنکھ کے لئے
منظر بھی آشکارہ نہیں آسمان کا

مٹی کا آدمی ہوں سو مٹی میں جاؤں گا
میرے بدن پہ گارہ نہیں آسمان کا

یوں ہی زمیں کو کیسے بھلا چھوڑ جاؤں میں
جب قرض بھی اتارا نہیں آسمان کا

لوگوں کا زعم دیکھ کے خالد لگا مجھے
دھرتی پہ اب اجارہ نہیں آسمان کا

خالد سجاد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے