اک عشق کیا اور وہ صدمات اٹھائے

اک عشق کیا اور وہ صدمات اٹھائے
مدت سے ہیں ہم لوگ فقط ہاتھ اٹھائے

یہ ہجر مسلسل ہے تو کوئی بھی اکیلا
پلکوں پہ کہاں تک غمِ صدمات اٹھائے

اے خاکِ بدن تیرا اگر چھوڑنا طے تھا
پھر کس لئے یہ عمر کے دن رات اٹھائے

ہم کو بھی میسر ہو کوئی لطف کا لمحہ
ہم نے بھی بہت رنج ترے ساتھ اٹھائے

سننے کے لئے مجمع ء خاموشاں ہے خالد
کوئی تو مرے لب سے مری بات اٹھائے

خالد سجاد

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا