سورج ڈوب رہا ہے آؤ طوف بادہ و جام کریں

سورج ڈوب رہا ہے آؤ طوف بادہ و جام کریں
تم بھی ذرا زلفوں کو سنوارو ہم بھی ذرا آرام کریں

کس کا وعدہ کیسی تمنا، اٹھ اے دل آرام کریں
ان کو بات کا پاس نہیں تو ہم کیوں نیند حرام کریں

محفل ہستی کے سازوں پر کیوں خاموشی طاری ہے
آؤ کوئی نغمہ چھیڑیں، لاؤ کوئی کام کریں

ایک سے ایک ملا ہے بڑھ کر جس کے بھی نزدیک گئے
کس کس سے ہم الجھیں باقیؔ کس کس کو بدنام کریں

باقی صدیقی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے