تجھ پہ یا خود پہ اعتبار کریں

تجھ پہ یا خود پہ اعتبار کریں
کوسنا رنگ اختیار کریں

تجربے کا یہی تقاضا ہے
آپ پر بھی نہ اعتبار کریں

پرسش غم نہیں ہے غم کا علاج
یہ تکلف نہ غمگسار کریں

حد نہیں انتظار کی کوئی
آگے ہم جتنا انتظار کریں

پتا پتا ہے مضمحل باقیؔ
ہم کہاں تک غم بہار کریں

باقی صدیقی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی