صبح بس میں

ڈھیلے فیتوں والے نیلے سینڈلوں میں ننھے پیر

بیٹھے ہیں یہ سانولے قیدی بڑے چُپ چاپ سے

اِن سے کیا جانے ہوئی ایسی خطا

لازمی ہے اِن پہ گردش میں رہیں

جانے کیسے جُرم کی پاداش میں

پل دو پل کا یہ سفر اور چلچلاتی زندگی

اُونگھتے ہیں دو کبوتر بس ذرا سی دیر کو

ایک جھپکی اور صدیوں کی تھکن کے کارواں

صف بہ صف اترے چلے آتے ہیں سُونی راہ پر

جانتے ہیں بس ابھی رُک جائے گی

اور سڑکوں ،راستوں ، فٹ پاتھ پر

شام تک چلتے رہیں گے گردشوں کے سلسلے

پھر بھی خوابوں کو بلانے سے

یہ باز آتے نہیں

گلناز کوثر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان