مردہ کبوتر

اُونچی شاخوں سے اُلجھی ہوئی ڈور

کچھ مردہ تنکوں کے

اندھے سہارے پہ

لٹکا ہوا یہ کبوتر

خدا جانے کب سے

ہواؤں کے دھارے پہ

بہنے لگا ہے

ادھ کھلے پر میں جکڑی ہوئی

ڈور کا یہ سرا ہی

کبوتر کا اس پیڑ سے

آخری واسطہ ہے

پر یہ ننھی خمیدہ سی گردن جھکائے

بڑی بے نیازی سے بس

ڈولتا جا رہا ہے

نیچے جلتی ہوئی اِک سڑک پر

وہ ہنگام ہستی ہے جس کو بھی دیکھو

وہی اپنے پیروں کے چھالے چھپائے

پریشاں نگاہوں میں خوابوں کی

بے تابیوں کو سجائے

کسی اندھی منزل کی جانب

بڑھا جا رہا ہے

جو دیکھو تو سانسوں کا تاوان

خلق خدا پر کڑا ہے

بصد شکر معصوم، ننھے سے دل کو

قرار آ گیا ہے

گلناز کوثر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے