سب خواب میں ہیں کون سنے گا

سب خواب میں ہیں کون سنے گا نوائش

گویا ہے ماورائے سماعت صدائے شب

اک چاند میرے ساتھ چلا پھر پلٹ گیا

کس ہمسفر نے ساتھ دیا ماسوائے شب

حیرت سے سوچتا ہوں کہ جشنِ طلوعِ مہر

اک ابتدائے صبح ہے یا انتہائے شب

کرنوں نے بڑھ کے روک دیا سیل تیرگی

سورج نے آ کے ختم کیا ارتقائے شب

فردا کے ایک وعدۂ روشن کے باوجود

کچھ اور ظلمتیں ہیں ابھی ماورائے شب

سعود عثمانی

Related posts

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

ماورا ہے سوچوں سے

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں