عجب خجالتِ جاں ہے نظر تک آئی ہوئی

عجب خجالتِ جاں ہے نظر تک آئی ہوئی

کہ جیسے زخم کی تقریبِ رونمائی ہوئی

نظر تو اپنے مناظر کی رمز جانتی ہے

کہ آنکھ کہہ نہیں سکتی سنی سنائی ہوئی

برونِ خاک فقط چند ٹھیکرے ہیں مگر

یہاں سے شہر ملیں گے اگر کھدائی ہوئی

خبر نہیں ہے کہ تو بھی وہاں ملے نہ ملے

اگر کبھی مرے دل تک مری رسائی ہوئی

میں آندھیوں کے مقابل کھڑا ہوا ہوں سعود

پڑی ہے فصلِ محبت کٹی کٹائی ہوئ

سعود عثمانی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا