شاید درِ یقین پہ رسائی کا وقت ہے

شاید درِ یقین پہ رسائی کا وقت ہے
گرہ ِ گماں کی عقدہ کشائی کا وقت ہے

وارفتگی کے ساتھ ملے ہو کچھ اس طرح
یوں لگ رہا ہے جیسے جدائی کا وقت ہے

نکلے بدن سے روح تو خوش ہونا چاہیے
یہ قیدِ زندگی سے رہائی کا وقت ہے

سانسیں رکی رکی سی ہیں جذبات سرد ہیں
اور ٹھہرے پانیوں پہ یہ کائی کا وقت ہے

صائب نہیں یہ منزل ِ ادراک کا سفر
دشت ِ جنوں ہے آبلہ پائی کا وقت ہے

صدیق صائب

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے