مشرق وسطیٰ

مشرق وسطیٰ

لہو کی موج سفینوں کے سنگ لے آئے
بنامِ امن وہ ساحل پہ جنگ لے آئے

جنہیں کتاب، دلائل، فنون بھیجے تھے
ہمارے واسطے تیر و تفنگ لے آئے

جب آنے والا ہی دشنہ بدست آیا ہو
تو کوئی کیسے مقابل میں چنگ لے آئے

لباسِ آہنِ برتر وہ لے کے آیا تھا
فنائے جسم کی گدڑی ملنگ لے آئے

افق پہ خون کے بدلے دھنک دکھائی دے
خدا کرے کہ مری بات رنگ لے آئے

شہزاد نیّرؔ

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی