سوال یہ تھا کہاں ملو گے

سوال یہ تھا کہاں ملو گے
جواب یہ ہے جہاں کہیں گے

سوال یہ تھا یہ ہجر سارا
جواب یہ ہے ہمیں سہیں گے

سوال یہ تھا جہاں پہ چھوڑا
جواب یہ ہے وہیں رہیں گے

سوال یہ تھا کہ تیرے آنسو
جواب یہ ہے ابھی بہیں گے

سوال یہ تھا کہ چپ رہو تم
جواب یہ ہے کہ کچھ کہو تم

محمد رضا نقشبندی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے