پھول مدحت کے کھلائے نعت میں

پھول مدحت کے کھلائے نعت میں
ہو گئے رحمت کے سائے نعت میں

بخششوں کی بات جب چھیڑی گئی
لوگ سارے مسکرائے نعت میں

ان کی باتیں باعثِ تسکینِ جاں
ان کے جلوے ہیں ردائے نعت میں

جس کا دم گھٹنے لگا ہو حبس سے
آئے !!! بیٹھے !!! وہ فضائے نعت میں

ان کی محفل کا تقاضا ہے رضا
احترامِ دل سے آئے نعت میں

محمد رضا نقشبندی

Related posts

آمد

چلو چلیں

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں