سبھی نقوش غلط خال و خد بلا کے خراب

سبھی نقوش غلط خال و خد بلا کے خراب
مجھے وہ ٹھیک نہیں کر سکا بنا کے خراب

مجھے پسند ہے ہر شے جو میرے جیسی ہو
سو اچھی چیز میں رکھ آتی ہوں اٹھا کے خراب

بس ایک بار ہی کافی ہے زندگی کہ خدا
پھر اس جہان میں ہونا ہے کس کو آ کے خراب

تو اک چراغ جلا آؤ شب کی چوکھٹ پر
اگر مزاج نہیں لگ رہے ہوا کے خراب

ہر ایک کام مکمل توجہ چاہتا ہے
تبھی تو خود کو کیا خوب دل لگا کے خراب

تضاد قول و عمل اور فریب لہجوں میں
یہ لوگ دیکھنے میں ہی تھے انتہا کے خراب

میں سب سے خوش نما پتھر تھی تجھ عمارت کا
سو تو نے خود کو کیا ہے مجھے ہٹا کے خراب

تمہارا دکھ ہے کہ تم بھی بنا دئے گئے ہو
ہمارا کیا ہے کہ ہم لوگ تھے سدا کے خراب

کومل جوئیہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے