چلا ہوا ہے الٹ ہی نظام رونے کا

چلا ہوا ہے الٹ ہی نظام رونے کا
جہاں ہنسے ہیں وہی تھا مقام رونے کا

ہمارے گریے میں تاثیر ہی بلا کی تھی
سو ہم سے لیتے رہے لوگ کام رونے کا

حضور بعد میں برسائیے گا پشت پہ بید
سلیقہ سیکھ لیں پہلے غلام رونے کا

تو میرے سامنے آئے میں کھلکھلا کے ہنسوں
میں تیری ذات سے لوں انتقام ، رونے کا

یہ شہر آنسوؤں میں ڈوب جائے گا اک روز
اگر ہوا نہیں قصہ تمام ، رونے کا

کومل جوئیہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا