کٹی ہے عمر اسی خوشنما فریب کے ساتھ
فرازِ زیست بھی دیکھیں گے ہم نشیب کے ساتھ
تو میرے ظرف کو مالک کشادہ کردینا
کہ دل ہی تنگ نہ پڑ جائے ، تنگ جیب کے ساتھ
بگڑ گئے ہیں اچانک نگار و نقشِ حیات
بڑا ہی ظلم ہوا عکسِ دیدہ زیب کے ساتھ
یہ میٹھے لہجے کے لوگوں کے لب پہ نوحے کیوں ؟
ہوا ہے کیسا ستم ، شہرِ دلفریب کے ساتھ
حصارِ رنج و الم اب سکوں میں ہو تبدیل
مرے خدا تری نصرت رہے وسیب کے ساتھ
کومل جوئیہ