سات دریاؤں کا پانی ہے ، مرے کوزے میں

سات دریاؤں کا پانی ہے ، مرے کوزے میں
بند اک تازہ کہانی ہے ، مرے کوزے میں

تم اسے پانی سمجھتے ہو تو سمجھو صاحب،
یہ سمندر کی نشانی ہے ، مرے کوزے میں

میرے آباء نے جوانی میں مجھے سونپا تھا،
میرے آباء کی جوانی ہے ، مرے کوزے میں

چاروں سمتوں میں کوئی شے بھی اگر ہے موجود،
اس نے وہ لا کے گرانی ہے ، مرے کوزے میں

قرض ہے مجھ پہ جو اک عکسِ تمنا آزر،
اس نے کیا شکل بنانی ہے ، مرے کوزے میں

دلاور علی آزر 

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے