چھوڑ کر جسم و جاں ، چلا جاؤں

چھوڑ کر جسم و جاں ، چلا جاؤں
زندگی میں کہاں ، چلا جاؤں

لفظ افسوس میں شریک تو ہوں
میں اگر رائیگاں ، چلا جاؤں

نیند کے درمیاں پُکارے خواب
خواب کے درمیاں ، چلا جاؤں

خود کو تنہا کبھی نہیں چھوڑا
جس طرف جس جہاں ، چلا جاؤں

پاؤں رکھتا ہوا ستاروں پر
میں پسِ کہکشاں ، چلا جاؤں

جا رہا ہوں میں اس خرابے سے
بے یقین و گماں ، چلا جاؤں

کوئی منزل نہ ہو کہیں آزر
کارواں کارواں ، چلا جاؤں

دلاور علی آزر 

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی