روغن چراغ کا نہ فتیلہ چراغ کا

روغن چراغ کا نہ فتیلہ چراغ کا
جانے کدھر گیا ہے قبیلہ چراغ کا

اس کے بدن سے دھوپ نکلتی تھی رات بھر
وہ شخص ہو گیا تھا وسیلہ چراغ کا

لفظوں میں خون دل کا جلاتے رہے کہ ہو
اس شہرِ بے چراغ میں حیلہ چراغ کا

یوں جھلملایا چاند سا چہرہ نگاہ میں
پانی میں جیسے عکسِ جمیلہ چراغ کا

اک نور سے تھی خاک نہائی ہوئی کلیمؔ
بستی میں ایک رہتا تھا ٹیلہ چراغ کا

کلیم احسان بٹ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا