اِس شہرِ پُر ملال کی دنیا ہی اور ہے

اِس شہرِ پُر ملال کی دنیا ہی اور ہے
اُس حسنِ لازوال کی دنیا ہی اور ہے

عکس و خیال و خواب کی دنیا ہے اور کچھ
اس صاحبِ جمال کی دنیا ہی اور ہے

ہم خاک زاد اس کو سمجھتے بھی کس طرح
جب نورِ بے مثال کی دنیا ہی اور ہے

دنیا حدودِ وقت سے باہر بھی ہے ابھی
یعنی ہمارے حال کی دنیا ہی اور ہے

رقصاں ہے اس کے عشق میں ہر قافیہ، ردیف
یعنی مرے کمال کی دنیا ہی اور ہے

کلیم احسان بٹ

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی