جو بھی ایثار کر نہیں سکتا

جو بھی ایثار کر نہیں سکتا
وہ کبھی پیار کر نہیں سکتا

میری عزت کا سودا دشمن سے
کوئی سردار کر نہیں سکتا

ایک ایسی لکیر ہے جس کو
کوئی بھی پار کر نہیں سکتا

عشق تو اس قدر مقدس ہے
یہ گنہ گار کر نہیں سکتا

میری آنکھوں کو یہ سزا دی ہے
صرف دیدار کر نہیں سکتا

کلیم احسان بٹ

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل