رستے میں ہاتھ چھوڑ کے دنیا سے ڈر گیا

رستے میں ہاتھ چھوڑ کے دنیا سے ڈر گیا
اک شخص میرے واسطے زندہ ہی مر گیا

جن شدتوں سے وہ مرے سر پر سوار تھا ۔۔
وہ جلدباز دل سے بھی جلدی اتر گیا

اشکوں کو پونجھتا تھا جو پلکوں سے چوم کر
مرهم نما وہ شخص بھی جانے کدھر گیا

ہم سوچتے ہی رہ گئے اچھا بھی آئے گا
لگتا ہے وقت پھر سے کوئی ہاتھ کر گیا

لمبی رفاقتوں میں یہی تو عذاب ہے
آنکھیں تھکی تھکی سی تو دل ہے کہ بھر گیا

فوزیہ شیخ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا