حصے میں نمی ہجر کی

حصے میں نمی ہجر کی عود آئی زیادہ
کچھ جسم کی مٹی بھی تھی دریائی زیادہ

ہر دور میں حضرات کو شکوہ ہی رہا ہے
کیوں ملتی ہے عورت کو پذیرائی زیادہ

کچھ لوگ اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں تھے
کچھ مانگ کے تقدیر میں لکھوائی زیادہ

اتنے تو محبت میں گنہ ہوتے نہیں ہیں
بس ہوتی ہے اس کام میں رسوائی زیادہ

تو باپ کی خوشبو ہے خفا ہونا نہ مجھ سے
ورثے کی زمین لے لے مرے بھائی زیادہ

دل توڑنے والوں کے لیے ڈھیر دعائیں
لگتے بھی پیارے ہیں یہ ہرجائی زیادہ

فوزیہ شیخ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی