جن کو جینے کا سلیقہ

جن کو جینے کا سلیقہ ہو وہ جی لیتے ہیں
درد سہہ جاتے ہیں اور اشک بھی پی لیتے ہیں

کم وسائل میں گذارا بھی ہنر ہے صاحب
ہم تو اک خواب کو اک عمر بھی جی لیتے ہیں

پوریں زخمی ہی سہی ہاتھ دریدہ ہوں بھلے
زخم دو چار تو ہرحال میں سی لیتے ہیں

تیرے اک اشک میں بہہ جاتے ہیں تنکوں کی طرح
ہم سمندر بھی جو دریاؤں کو پی لیتے ہیں

ہم کسی بات پہ اے کاش نہیں کہہ سکتے
لوگ اس لفظ کا مفہوم کمی لیتے ہیں

ہم وہ تاجر ہیں ترے درد خریدیں گے سبھی
غم اٹھائیں بھی تو بدلے میں خوشی لیتے ہیں

زندگی تلخ سہی ، خواب پریشاں سب کے
لطف سانسوں کا بہر حال سبھی لیتے ہیں

فوزیہ شیخ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی