رات بھر دل سے کہیں شور جرس آتا ہے

رات بھر دل سے کہیں شور جرس آتا ہے
یاد جب تیرے بچھڑنے کا برس آتا ہے

اب کسی زخم کو بھرنے کی ضرورت ہی نہیں
اب تو ہر زخم سے اک پھول کا رس آتا ہے

شاخ در شاخ سفر کرتے ھوئے ہمسفرو
ایسی پرواز میں اک باب۔ قفس آتا ہے

کیسے پلکوں سے گرے اور زمیں بوس ھوئے
دل سے اترے ھوئے لوگوں پہ ترس آتا ہے

ہم سے درویش بھی راہوں میں بھٹک جاتے ہیں
اس محبت میں بھی اک شہر ۔ ہوس آتا ہے

حبس کا کون سا موسم ہے کہ شب بھر فوزی
اب ہوا چلتی ہے یاں خار نہ خس آتا ہے

فوزیہ شیخ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے