رات پھر تیری آغوش میں روشنی کا سفر

رات پھر تیری آغوش میں روشنی کا سفر

کر رہا ہے ستارہ مرا زندگی کا سفر

دشت کے دشت پیتا ہے یہ پھر بھی پیاسا ہے یہ

ختم کب ہو گا اِس بحر کی تشنگی کا سفر

دُھول میں سب ملا کر گئے سب لٹا کرگئے

لوگ آئے تھے کرنے یہاں بندگی کا سفر

لُٹ گئی میری حیران آنکھوں کی دنیا تو پھر

اشک چُپ چاپ کرتے رہے خامشی کا سفر

اُس کے ہمراہ چلتے ہوئے خوف سا دل میں تھا

روشنی کے جَلُو میں کیا تیرگی کا سفر

خواب آنکھوں میں رُلتے ہیں شاذ اس طرح جس طرح

اجنبی راستوں پہ کسی اجنبی کا سفر

شجاع شاذ

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی