اب تیرے پیار کی تشہیر مرے بس میں نہیں

اب تیرے پیار کی تشہیر مرے بس میں نہیں

ٹوٹ جاتی ہے یہ زنجیر مرے بس میں نہیں

رنگ بکھرے ہوئے ہر سمت نظر آتے ہیں

اب دھنک میں تری تصویر مرے بس میں نہیں

میں ہدف کو تو کہیں دور چھُپا سکتا ہوں

جانتا ہوں کہ ترا تیر مرے بس میں نہیں

حکم تھا، خواب میں ، صحرا کو میں سیراب کروں

خواب ایسا ہے کہ تعبیر مرے بس میں نہیں

اے محبت تیری بنیاد نہیں رکھ پایا

یہ ہی افسوس ہے تعمیر مرے بس میں نہیں

شاذ کیسا ہے یہ شکوہ ترا دیوانے سے

جانتا تُو بھی ہے تقدیر مرے بس میں نہیں

شجاع شاذ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی