پھیلے ہوئے غبار کا پھر معجزہ بھی دیکھ

پھیلے ہوئے غبار کا پھر معجزہ بھی دیکھ

رستے سے جو بھٹک گیا وہ قافلہ بھی دیکھ

میں نے تو آسمان کو ٹھوکر پہ رکھ لیا

ذرے میں کائنات کا یہ زاویہ بھی دیکھ

کب تک تو سارے شہر کو بونا بتائے گا

خود پر بھی کر نگاہ کبھی آئینہ بھی دیکھ

میرے لبوں پہ دیکھ نہ تو خامشی کی مہر

تو اپنی حرکتوں کا ذرا سلسلہ بھی دیکھ

شہر انا میں آئنے کے رو بہ رو ہوں میں

احساس کی نظر سے مرا حوصلہ بھی دیکھ

عالمؔ نئے جہان کی سطوت بیان کر

صدیوں سے جس پہ نور ہے وہ راستہ بھی دیکھ

افروز عالم

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے